اگلے الیکشن میں شاہ محمود قریشی کا مستقبل کیا ہے ؟

آرٹیکلز
لاہور (ویب ڈیسک) مخدوم شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی گدی کے سجادہ نشین ہونے کے ناطے اہم ہوئے بغیر رہ نہیں سکتے۔ جنوبی پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے و الے تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جہانگیر ترین گروپ کی اگلی منزل صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) ہی ہے

اور پہلے ہی انتخابی معرکے میں کامیاب ہوکر خود کو ہیوی ویٹ سمجھنے والے سلمان نعیم نے تو یہ عندیہ بھی دیدیا ہے کہ شاید وہ اگلا الیکشن اپنے گروپ کے ہمراہ ( ن) لیگ کے ٹکٹ پر لڑیں، جہانگیر ترین کی لاہو رمیں ملاقاتیں اور فاتحہ خوانیاں بھی یہی اشارہ دے رہی ہیں۔نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات طے ہے جہانگیر ترین گروپ اگرمسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو یہ گروپ جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کیلئے جہاں لوہے کا چنا ثابت ہوسکتا ہے وہاں مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی پی ٹی آئی کے ایام میں ہونیوالی لڑائی اسی طرح نئی سرے سے شروع ہوجائیگی پی ٹی آئی کے دور کی یہ لڑائی دونوں بڑوں کے نون لیگ میں جانے کے بعد پھر سے نہ شروع ہوجائے، مگر وہاں شاید یہ ممکن نہ ہو کہ میاں برادران کو پارٹی کو کنٹرول کرنا آتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے جس وعدے اور جن اُمیدوں پر ووٹ دئیے تھے وہ پورے ہونا تو درکنار ان کے مسائل تو پہلے سے بھی بڑھ گئے ہیں، پھر آئندہ انتخابات میں رہی سہی کسر مہنگائی پوری کردیگی۔ ملتان کے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی رانا اقبال سراج نے ایک مرتبہ ملتانی مخدوم کو بتایا کہ بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا، نے اپنی وزارت کی مدت میں اپنے حلقے کے 6,600 نوجوانوں کو یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایڈجسٹ کروایا اور چند ہی سالوں میں یہ تعداد کئی ہزار تک پہنچ گئی کہ ہر جانے والا کسی نہ کسی کو وہاں بلواتا رہا۔آج انکے حلقے میں تعلیم اور روزگار کی بھرمار ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملتانی مخدوم اس مشورے پر خفا ہوگئے تھے۔ویسے بھی جب تک دعاؤں اور پھونکوں سے کام چلتا ہو تو پھر ایسے تردد کی کیا ضرورت ہے ۔ رانا اقبال سراج اپنا مشورہ اپنے پاس رکھیں کہ اس خطے نے ابھی مزید کئی سال غلامی کے حصار میں رہنا ہے


Source link

Leave a Reply