این اے 133 کی دلچسپ صورتحال پر بی بی سی کا خصوصی تبصرہ

پاکستان
لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار اشعر رحمان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لاہور کے ایک حلقے میں، جہاں اگلے ماہ ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، اس وقت انتہائی دلچسپ صورتحال ہے۔ این اے 133 میں یہ انتخاب مسلم لیگ نون کے رہنما پرویز ملک کے انتقال کی

وجہ سے منعقد کیا جا رہا ہے۔یہاں پر پاکستان تحریک انصاف نے جمشید اقبال چیمہ کو اپنا امیدوار نامزد کیا اور جیسا کہ عام روایت ہے، ان کی بیگم کو ان کی کورنگ امیدوار کے طور پر کھڑا کیا۔ مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے، حالات کو کچھ اور ہی منظور تھا۔یقیناً یہ ایک کڑا امتحان تھا کیونکہ لاہور میں ن لیگ کو ہرانا ا آج بھی ایک ناممکنات میں نہیں تو اس کے آس پاس کی چیز ضرور ہے۔ مگر آفرین ہے چیمہ صاحب اور ان کی بہتر نصف پر کہ وہ اس امتحان سے ایسے گزر گئے جیسے کوئی باغ میں چہل قدمی کر رہا ہو۔ صاف اور شفاف۔چیمہ صاحب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا۔ وہ پہلے بھی الیکشن لڑتے اور لڑواتے رہے ہیں لیکن اس بار وہ ایک انتہائی بنیادی غلطی کے مرتکب ہوئے اور نتیجتاً ایک کڑی آزمائش سے بچ گئے جس میں وقت بھی بہت صرف ہوتا اور پیسہ بھی اچھا خاصا لگ جاتا۔مسٹر اینڈ مسز جمشید اقبال چیمہ اس تقریب انتخاب میں شرکت کے لیے نا اہل قرار پائے ہیں محض اس لیے کے ان کو الیکشن کی دعوت دینے والا یعنی ان کا تجویز کنندہ، اس شرط پر پورا نہیں اترتا تھا جس کے تحت اس شخص کا اس حلقہ کا رہائشی ہونا لازم تھا۔اس غیر جبری نا اہلی کے بعد تحریک انصاف نے جو بھی چھوٹا موٹا کچھ شور مچایا، وہ معاملہ کی مضحکہ خیزی کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔ مطلب سوچیے اس پارٹی کے بارے میں جس

کا سارا زور بدعنوان لوگوں کو قید خانوں کی راہ دکھانے اور سیاست سے بابر کرنے پر ہو وہ یہاں اپنے مد مقابل کو یہ طعنہ دیتا پکڑا جائے کہ ہمت ہے تو یہ تکنیکی اعتراض واپس لو اور اصلی سیاستدانوں کی طرح سیاسی نا کہ قانونی طریقہ سے اس معاملہ کو حل کرے۔پی ٹی آئی کا یہ مطالبہ، التجا یا اپیل اس کے اپنے اس بیانیہ سے مطابقت نہیں رکھتی جس میں ملک کا سب سے بڑا احتسابی ادارہ نیب ایک مرکزی کردار میں موجود ہے۔ابھی کل کی ہی خبر تھی وزیراعظم کے بدعنوانی کے خلاف عزم کے بارے میں جو انھیں قانون میں ترمیم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ مقصد ہے کہ کوئی بدعنوان فرد انصافی جال سے بچ نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کیا یہ ہمیشہ کے لیے طے ہو چکا ہے کہ قانونی راہ پر چل کر کس کس سیاستدانوں کو روکا جا سکتا ہے؟جو صاحب اقتدار ہیں وہ یاد رکھیں پروپیگنڈہ اور سب سے بہترین پروپیگنڈہ کرنے والے چاہے وہ میڈیا میں ہوں یا اس سے باہر ان پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ آج جو لوگ وہاں شکایت لے کر جاتے ہیں کل کٹہرا بھی ان کا مقدر ہو سکتا ہے۔ سیاست میں کوئی کیس، کوئی فیصلہ آخری نہیں اور جیوری کی رائے میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔


Source link

Leave a Reply