عید میلاد النبی: ’پورا مہینہ ہی جشن کا مہینہ ہے‘

سجاوٹیں اور روشنیاں، مٹھائیاں اور مشہور کھانے، حمد اور پیغمبرِ اسلام کو یاد کرنے کے سیشن، جھنڈے اور موم بتیوں کے جلوس۔۔۔ مراکش سے لے کر مشرق تک عرب شہروں اور دیہاتوں میں لوگ ہر سال پیغمبرِ اسلام کا یوم ولادت مختلف طریقوں سے مناتے ہیں۔

سجاوٹیں اور روشنیاں، مٹھائیاں اور مشہور کھانے، حمد اور پیغمبرِ اسلام کو یاد کرنے کے سیشن، جھنڈے اور چراغاں کے جلوس۔۔۔ مراکش سے لے کر کویت، قطر، متحدہ امارات تک عرب شہروں اور دیہاتوں میں لوگ ہر سال پیغمبرِ اسلام کا یوم ولادت مختلف طریقوں سے مناتے ہیں۔

کیونکہ یہ جشن ایک خوشگوار موقع کے متعلق ہے اور مشہور روایات سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کے بارے میں قانونی مکاتب فکر کی رائے کے بارے میں ہر سال سوال بھی اٹھتا ہے۔

یہ درست ہے کہ زیادہ تر حوالہ جات بتاتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام ہجری کلینڈر کے مطابق ربیع الاول کے مہینے میں پیدا ہوئے تھے، لیکن سنی مکتب فکر 12 ربیع الاول کو ولادت کا دن مناتا ہے جبکہ شیعہ مکتب فکر 17 ربیع الاول کو۔

لہذا اگر بات اسلامی تاریخ کی کی جانئے تو ربیع الاول کا پورا مہینہ ہی جشن کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔

تاریخ میں اس معمولی اختلاف کی ہی وجہ سے ایران کے روح اللہ خمینی نے سنہ 1981 میں ولادت کے جشن کی ان تاریخوں میں سنی و شیعہ کو قریب لانے کے لیے اسے ’اسلامی وحدت کا ہفتہ‘ قرار دیا تھا۔

پیغمبرِ اسلام کی ولادت کے متعلق تاریخ کی کتابوں میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، جن میں سب سے مشترکہ چیز یہ ہے کہ آپ پیر کے روم پیدا ہوئے تھے، کیونکہ جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ پیر کو روزہ کیوں رکھے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’یہ میری ولادت کا دن ہے۔‘

حوالہ جات یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ ’ہاتھی کے سال‘ (عام الفیل) میں پیدا ہوئے تھے، یعنی 570 اور 571 عیسوی کے درمیان۔ اس کا یہ نام اس لیے پڑا تھا کہ اس سال یمن کے حکمران ابرہہ نے خانہ کعبہ کو تباہ کرنے کے لیے مکہ پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس حملے میں ہاتھیوں کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔

پیغمبرِ اسلام کے والد عبداللہ کی وفات ان کی پیدائش سے پہلے ہو گئی تھی اور ابھی وہ بہت چھوٹے تھے کہ ان کی والدہ آمنہ بنت وہاب کی بھی وفات ہو گئی۔ اُن کی پرورش پہلے ان کے دادا عبدالمطلب نے کی اور پھر دادا کی وفات کے بعد ان کی سرپرستی ان کے چچا ابو طالب نے کی۔

یہ بھی روایت ہے کہ عبدالمطلب نے ہی اپنے پوتے کا نام ’محمد‘ رکھا تھا اور اس وقت یہ نام عربوں میں عام نام نہیں تھا اور انھوں نے یہ نام ان کی تعریف کے حوالے سے رکھا تھا۔ ان کے دادا کی خواہش تھی کہ ان کے پوتے کی آسمانوں اور زمین پر تعریف کی جائے۔

مذہبی حوالہ جات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی برسوں میں پیغمبر اسلام کا یوم ولادت عام طور پر نہیں منایا جاتا تھا اور چوتھی صدی ہجری تک یہ کسی روایت میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔

نبی کی ولادت کی سالگرہ کے جشن کا آغاز فاطمی خلیفہ ابو تميم معد المعزّ الدين اللہ سے منسوب کیا گیا ہے جب وہ 969 عیسوی میں مصر میں داخل ہوئے تھے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق پیغمبرِ اسلام اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کی ولادت کے دنوں کو منظم طریقے سے منانے کی تقریبات کا آغاز خلیفہ نے مصریوں کو اپنے قریب لانے کے لیے کیا تھا۔ یہ وہ عوامی تقریبات تھیں جن میں خوشی کا غلبہ رہتا تھا۔

حکومت کی تبدیلی اور مختلف اسلامی تنازعات کے بعد میلاد کا جشن بھی ماند پڑتا گیا، کبھی منایا جاتا اور کبھی نہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ محمد علی پاشا کے دور میں یہ ایک صوفی روایت میں بدل گیا۔

صوفی سلسلے وہ اسلامی درسگاہیں ہیں جو پیغمبر اسلام کی سالگرہ اور دیگر اولیائے کرام کی پیدائش کے دنوں کے بارے میں سب سے متحرک نظر آتے ہیں۔ یہ تقریبات مصر میں طویل عرصے سے قائم روایات میں شامل ہیں، جہاں صوفی دھارے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں، اور ان روایات کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جیسا کہ کسی چیز کو لے سے پڑھنا، ذکر کرنا اور جلوس نکالنا۔

مختلف صوفی سلسلے ہونے کے باوجود، وہ پیغمبرِ اسلام اور اولیائے اکرام کی تعریف و تعظیم کے طور پر اُن کی شفاعت مانگنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ان کی پیدائش اور وفات کی یاد کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ دعا اور یاد میں خوشی اور اداسی کے جذبات کا اظہار روحانی سکون کی حالت تک پہنچنے کا ایک طریقہ ہے جو یہ سکون کے متلاشی چاہتے ہیں۔

صوفیانہ سوچ کے برعکس سعودی مذہبی سکالر عبد العزیز بن باز (1912-1999) کی قیادت میں سلفی علما نے یہ نظریہ پیش کیا کہ پیغمبرِ اسلام کا یومِ پیدائش منانا ایک اختراع یا بدعت ہے۔

ابن باز کے مطابق شریعت نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ کیا میلاد منانے کی اجازت ہے، کیونکہ نہ تو پیغمبرِ اسلام نے خود اور نہ ہی صحابہ نے اسے منایا اور اس لیے یہ ایک بدعت ہے۔ ان کی رائے میں خدا نے مسلمانوں کو جشن منانے کے لیے دو تہوار دیے ہیں، ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی۔

پیغمبرِ اسلام کی سالگرہ منانے کی روایت کو زندہ رکھنے کا مسئلہ سلفیوں اور صوفیوں کے مابین فقہ کے تنازعات میں سے ایک اہم تنازع ہے۔

دوسری جانب الاظہر اتھارٹی نے پیغمبرِ اسلام کی سالگرہ کے حوالے سے کئی فتوؤں میں جشن منانے پر مثبت موقف اختیار کیا ہے۔ ان فتوؤں کے مطابق یہ درست ہے کہ قرآن اور احادیث نے واضح طور پر پیدائش کا جشن منانے کا حوالہ نہیں دیا اور اس کی روایت چوتھی صدی ہجری تک شروع نہیں ہوئی، لیکن یہ پیغمبرِ اسلام کی شان اور ان کی محبت ظاہر کرنے کے طریقوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی ممانعت کی جائے۔

بیشتر سنی مبصرین کی بھی یہی رائے ہے کہ اگرچہ پیدائش کے جشن کی تقریبات واجب نہیں ہیں، ان پر کوئی ممانعت بھی نہیں ہے، کیونکہ نبی کی سالگرہ نسلِ انسانی پر خدائی رحمت کا مظہر ہے، خوشی اور محبت کا اظہار ہے، جہاں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اور پیغمبرِ اسلام کی زندگی کی ثنا کی جاتی ہے۔

ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو نبی کی آمد کے جشن کو ایک ’اچھی اخترع‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، جن میں ایک عالم ابن حجر العسقلانی (1371-1449) بھی ہیں۔ ایک اور عالم جلال الدین عبد الرحمن السیوطی (1445-1505) بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ ’ایک اچھی اختراع ہے جس کا اسے شروع کرنے والے کو انعام دیا جائے گا۔‘

شیعہ برادری کے لیے پیغمبرِ اسلام کا یوم ولادت منانا ان کی محبت، عزت اور عظمت کا اظہار ہے اور اس طرح اس کا مذہب سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔

نظریاتی تنازع بعض اوقات آج کل سیاسی جہت اختیار کر لیتا ہے، بالکل اس طرح جیسے یہ ماضی میں اسلامی دور میں ہوا کرتا تھا۔ یمن میں حوثیوں کے عروج کے ساتھ وہاں پیغمبرِ اسلام کا یوم ولادت منانا زیادہ عام ہو گیا ہے۔

دوسری طرف نام نہاد دولتِ اسلامیہ شام اور عراق کے زیر کنٹرول علاقوں میں میلاد منانے سے لوگوں کو روکتی رہی ہے۔

پاکستان میں جشن

پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید میلاد النبی کا جشن مناتی ہے اور چھوٹے بڑے شہریوں میں اس حوالے سے تقاریب رکھی جاتی ہیں۔ سرکاری عمارتوں سے لے کر گھروں تک رنگ برنگی لائٹس اور سجاوٹیں کی جاتی ہیں اور مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق پیغمبر اسلام سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ اس مرتبہ ملک میں عید میلادالنبی ’ہم نہایت شایانِ شان طریقے سے ملک بھر میں منائیں گے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ 19 اکتوبر کی صبح ’صدرِمملکت ایک تقریب کی میزبانی کریں گے جبکہ مجھے سہ پہر میں کنونشن سینٹر میں یہ بابرکت دن منانے کا شرف حاصل ہو گا۔‘

اس اعلان کے بعد سے مختلف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں سرکاری عمارتوں پر مخصوص سجاوٹ کی گئی ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں گلی محلوں میں اجتماعی طور پر سجاوٹ بھی کی جاتی ہے اور مختلف تقاریب کے اہتمام کے ساتھ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔

Post By Hammad Ullah

Leave a Reply