She’s A Little Girl Now | ابھی تو چھوٹی بـچی ہے

ابھی تو چھوٹی بچی ہے”… یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بچیوں سے بچپن میں ہی سنجیدگی ، شائستگی اور وقار کو ختم کردیتا ہے، پھر جب وہ جوانی کی دہلیز پر پہونچتی ہیں تو اپنے اندر حیاء کو مفقود پاتی ہیں ۔

یہ بات یاد رکھیں کہ درخت کی ٹہنی ایک بار اگر (اپنے تیڑھے پن کے ساتھ) بڑی ہوجائے تو وہ ٹوٹ تو سکتی ہے لیکن سیدھی نہیں ہوسکتی….

 اسی لیے بچپن ہی سے اپنی بیٹیوں کو شرم وحیاء اور شائستگی کی تعلیم دیں اور پردہ کرنے کی عادت دلوائیں کیونکہ جب آپ بچپن ہی سے پردے کی عادت دلوائیں گے تو وہ بچیاں بڑے ہوکر ہر گز بھی بے پردگی کی طرف آمدہ نہیں ہوں گی۔

علامہ ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
👈🏻اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسان جن عادتوں پر نشوونما پاتا ہے ان ہی عادتوں پر بوڑھا بھی ہوجاتا ہے [من شبّ على شي شاب عليه] اسلئے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ بچوں کو سات برس کی عمر سے نماز کا حکم دیا جائے، حالانکہ وہ مکلف نہیں ہوتے لیکن عادت دلوانے کی خاطر اس بات کا حکم دیا۔

مجموعة أسئلة تهم الأسرة المسلمة:5

 امام ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
چھوٹی بچیوں کو چھوٹے چھوٹے کپڑے (نیم عریاں لباس) پہنانا اور اس معاملے میں لاپرواہی برتنا مناسب نہیں ہے اسلئے کہ بچپن ہی سے ان کی ایسی تربیت انکے حیادار ہونے اور بڑے ہونے پر بے حیائی سے دور رہنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

 التبرج وخطرہ : 16

اسی طرح امام ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ :
بعض لوگ اپنی چھوٹی بچیوں کو نیم عریاں (چھوٹے) لباس پہناتے ہیں اور لڑکوں کو لمبے لمبے لباس پہناتے ہیں، تو ایسے لوگوں کے لئے آپکی کیا نصیحت ہے۔۔۔؟؟

امام ابن باز رحمہ اللہ نے جواب دیتے ہوۓ فرمایا کہ:
یہ غلط اور خلافِ شریعت عمل ہے۔
شریعت کے مطابق عمل تو یہ ہے کہ چھوٹی بچیوں کو مکمل وساتر لباس پہنائے جائیں تاکہ وہ اسکی عادی ہوجائیں اور یہ چیز انکے مزاج میں داخل ہوجائے۔ اور چھوٹے بچوں کو ٹخنوں سے اوپر لباس پہنانا ہی شرعاً درست ہے تاکہ وہ بچپن ہی سے اسکے عادی ہوجائیں۔

کسی مسلمان مرد وعورت کے لئے یہ بات قطعاً جائز نہیں کہ وہ غیر مشروع امور پر اپنی اولاد کی تربیت کریں، اور مومنین کا معاملہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ بچپن ہی سے اپنے بچوں کی (خواہ لڑکی ہو یا لڑکا) تربیت شرعی امور کے عین مطابق کرتے ہیں تاکہ بچے اس کے عادی ہوجائیں اور وہ اس معاملے میں کوئی لاپرواہی یا کاہلی نہیں برتتے۔