Parizaad Poetry Lyrics In Urdu

Parizaad is a 2021 novel-based drama. Parizad novel was written by famous writer Hashim Nadeem. In Parizaad drama, the lead role of Parizaad is performed by talented actor Ahmed Ali Akbar and his acting is outstanding.

Let’s have a look at the heart-touching poetry of the drama Parizaad.

Parizaad Drama Poetry

Parizaad Poetry Lyrics In Urdu

 

کبھی تم نے کہا تھا وپس لوٹ جاؤ
کبھی تم نے کہا تھا وپس لوٹ جاؤ
KH Mohabbat Haq Hai
Faqat Kuch KhubRoaow Ka
حسین کے شہزادو کا
بوہت دلکش جسماو کا
فلک کے پریزادو کا
Mager Is Soghat Se Aari
میں ایک عام سا کاری
تو وپس لوٹ آیا
میجر یہ کاہ نہ پایا
بوہت برباد ہوتے ہیں ۔
فکت چہرے کہاں کچھ دل بھی پریزاد ہوتے ہیں۔
ہاں دل جو ٹوٹ جائے تو
فلک بھی کانپ اٹھتے ہیں۔
محبت روٹھ جائے تو وابین پھل جاتی ہیں۔
محبت روٹھ جائے تو وابین پھل جاتی ہیں۔
تو دکھ لو جانا تمہارے سحر میں
آج جانگلو کا سکوت ہے
تمھے ناز تھا جس پر
وو محبت بھی مشروت ہے۔
تمھارا حسین بس ایک سرب ہے
اور کیا دلکش اور کیا بدصورت
اور کیا دلکش اور کیا بدصورت
اس کے چہرے پر نقاب ہے
اس کا شک بہجاب ہے۔


Parizaad Poetry Lyrics In Urdu

محبت اب نہیں ہے

یہ کچھ دنوں بعد ہوا

وہ دن گئے جب

یہ اس کی یاد میں ہوا۔”


“قصے میری الفت کے جو مرقم ہیں سارے
ایک دکھ تیرے نام سے مرسم ہیں سارے
شید یہ زیرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنا تو تیری آیاب بھی مالوم ہیں سارے
سب جرم میری ذات سے منصب ہے محسن
کیا میرے سوا کیا شہر میں معصوم ہیں سارے…؟


“سنو تمہاری وفا پر مجھ کو گرچے پورا یکین ہے”
میرے زمانے کا وار کا کچھ بھروسہ نہیں۔
تو اگر کبھی آسا ہو تم مجھ سے نفرت ہو جائے ۔
تو کبھی ان باتو سے نفرت نہ کرنا
جو کبھی ہم نے ایک دنیا سے کی

کے باتین تو ربتا ہوتی ہیں۔
وو بنچ جہاں ہم بیت کرتے تھے۔
وو پہلی باریش، وو کافی کے کھلی مگ
وو سنیما کا پہلا ٹکٹ اور آخری دو سیٹیں
سب کو یاد رکھنا
کبھی ان سے نفرت مت کرنا

کے ہاں سب تو لمھے ہیں، ہر گھر سے ماورا
سنو مجھ سے اور بس مجھ سے نفرت کرنا
کے سرف میں اور فکر میں ہی تمہاری ہے نفرت کبل ہوں”


جب دھیمے دھیمے ہستی ہو
ہم باریش جیسی لگتی ہو
تھوری دل کی کہتی ہو
زیدہ دل میں رکھتی ہو
کیوں جاو رنگراز کے پاس
تم سے سہا میں بھی جاچھی ہو
کرنے دو انھے سنگھار
تم ساڈا بھی سجتی ہو”


’’سنو، تمہاری وفا فی گھرے پورا یکین ہے‘‘
Mager Dadalti Rotoow K War کا کچھ بھروسہ نہیں۔
تو جیر کبھی ایسا ہو
کے تم مجھ سے نفرت ہو جائے ۔
اور میری روح کی کومل پنکھیریا
تم کسی بابول کی ماند چوبنے لگیں
بیتے دن کو یاد نہ کرنا
کے یاد کا ظہیر…زخام کو بھرنے نہیں دیتا
ہان مگر دکھو….
کبھی ان باتو سے نفرت نہ کرنا
جو ہم نے گھنٹو ایک ساتھ بیت کیر کی ہے۔
کے باتین تو معصوم ربتا ہوتی ہیں۔
اور کسی کامناسیب کی بے ربطی سے
باتو کا لینا دینا میں…؟‘‘


جب باریش کی پہلی بوند گیرے تو چلے آنا۔
میرا سندیسہ ملے نا ملے تم چلے آنا۔

“پیاس کہتی ہے اب، رات ناچوری جائے”
اپنے ہی میں سمندر نہ آنے والا”

“میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں”
میر ہیلو جاو جو تم سے فرست ہو”

Leave a Comment